جہاں ہار جائیں وہاں دھاندلی کا واویلا اپوزیشن کا پرانا شیوہ ہے، شہباز گل

فیصل آباد: ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ عددی، قانونی، اخلاقی برتری کے باوجود این اے 75 میں دوبارہ الیکشن کروانے کیلئے تیار ہیں، جہاں الیکشن جیت جائیں وہاں انتخاب شفاف ، جہاں ہار جائیں وہاں دھاندلی کا واویلا اپوزیشن کا پرانا شیوہ ہے۔

صدارتی ریفرنس میں سیاسی جماعتوں کے سوا کسی کے دلائل کا کوئی حق نہیں بنتا، اٹارنی جنرل

فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ جس طرح ایک نسل پاکستان کو بنانے والی تھی اسی طرح پاکستان کو کھانے والی بھی ایک نسل ہے جس نے باپ، بیٹوں، بیٹیوں، بیویوں، بھائیوں، بھانجوں، بھتیجوں، کزنوں، ماموں، چاچوں اور حواریوں کی مدد سے ملک کو لوٹ کر کنگال اور اپنا خزانہ بیرون ممالک منتقل کرلیا اور اب وہاں خود عیش کررہے مگر عوام کو قرضوں کی دلدل میں پھنسادیا ہے لیکن اب ایسے عناصر کو اپنے سیاسی عزائم میں کامیابی نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سیاست سے کرپشن کو ختم کرنے کیلئے میدان میں آئے ہیں اسلئے کوئی ان سے این آر او کی توقع نہ رکھے۔ شہباز گل نے کہا کہ ن لیگ والے جب حکومت میں ہوتے ہیں توقومی خزانہ لوٹ کر کھاتے اور الیکشن کے دوران وہی کرپشن کا پیسہ لگاتے ہیں لیکن اگر شفاف الیکشن ہوں تو شفاف امیدوارآگے آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ووٹ خریدنے والے بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ جمہوریت ان کے گھر کی لونڈی ہے مگرعمران خان نے شروع دن سے شفاف الیکشن کی بات کی اورہم نے ہمیشہ عدالت اور ہر ادارے کا فیصلہ قبول کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خود کو جمہوریت کا چیمپین قرار دینے اور اپنا جینا مرنا پاکستانیوں کے ساتھ ہونے کا دعویٰ کر نیوالے نوازشریف احتساب سے بچنے کیلئے چکر دے کرملک سے باہر چلے گئے اور اب مریم نواز کی سرجری کا بہانہ بنایا جارہا ہے لیکن وہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ دن رات بھاگ دوڑ کر نیوالی مریم کی آخر ایسی کونسی سرجری ہے جو ملک میں نہیں ہوسکتی ،ہم انہیں ملک سے بھاگنے نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مریم کی ڈیوٹی جھوٹ بولنے کی ہے لہٰذاوہ جھوٹ پہ جھوٹ بولتی جارہی ہیں مگر اس سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔شہباز گل نے کہا کہ تمام اتحادی ہمارے ساتھ ہیں اسلئے ہم سینیٹ کا الیکشن بھاری اکثریت سے جیتیں گے۔

معاون خصوصی وزیراعظم برائے سیاسی امورنے مزید کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے مشکلات کا سامنا کرکے ملک عزیز پاکستان بنایا اور اس دور میں سب ٹھیک تھا جبکہ 1980 کے بعد ملک میں کھانے والے طبقے کو حکومت مل گئی اور اس نے ملک کو اس نہج پر پہنچادیا کہ آج پاکستان کا پیدا ہونیوالا ہر بچہ بھی لاکھوں کا مقروض ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ملک سے بدعنوانی ختم کرنے کیلئے آئے ہیں اور دنیا جانتی ہے کہ وہ جو کہتے ہیں کئے بغیر نہیں رہتے۔ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ عمران خان نے اپنی ساری زندگی شفاف انتخابات کیلئے جدوجہد کرتے گزاری اوریہی وجہ ہے کہ اب برسر اقتدار آکر شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایاجارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کی جڑ غیر شفاف انتخابات ہوتے ہیں لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سابقہ ادوار میں بھی ضمنی انتخابات حکومتیں ہی جیتتی تھیں لیکن پھر بھی ہم نے شفاف انتخابات کی روایت ڈالی ہے اور ضمنی انتخابات میں جہاں بھی ہمیں شکست ہوئی یا ہم فتح یاب ہوئے ہم نے نتائج کوکھلے دل سے تسلیم کیا ہے۔

ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ اپوزیشن کا وطیرہ ہے کہ جہاں سے وہ الیکشن جیت جائیں وہاں الیکشن ان کے لئے ٹھیک ہوتاہے اور جہاں سے انہیں شکست ہوئی ہو وہاں ان کے نزدیک دھاندلی ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کہے تو ہم دوبارہ الیکشن کروانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این اے 75ڈسکہ میں مریم نواز رات ایک بجے اپنی فتح کا اعلان کر کے صبح سات بجے تک کچھ نہیں بولیں اورپھر اس کے بعد الیکشن غیرشفاف ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ وہ حکومتی اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں لہٰذا سینیٹ یا ضمنی الیکشن کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا حکومت اسے تسلیم کرے گی۔

(Visited 5 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں