بس اب تک یہ نہیں کہا گیا کہ کرونا بھی نیب نے پھیلایا، چیئرمین نیب

چیئرمین نیب
Loading...

اسلام آباد: چیئرمین نیب جاوید اقبال نے کہا ہے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، ریاست ہمیشہ قائم رہے گی، کسی شعبے میں بے جا مداخلت نہیں کی،

ثابت ہو جائے ایک تاجر نے بھی نیب کے خوف سے ملک چھوڑا تو گھر چلا جاؤں گا، پانچ سو کی جگہ پانچ لاکھ خرچ کرنے کا پوچھا تو کیا غلط کیا، احتساب کے شفاف عمل پر یقین رکھتے ہیں۔

چیئرمین نیب جاوید اقبال نے صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اربوں ڈالر کا مقروض ہے، اربوں روپے ریکور کر کے حکومتی خزانے میں جمع کرائے، تاجروں کی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا، چیئرمین نیب کا عہدہ عوام کی خدمت کیلئے ہے، معیشت مضبوط ہوگی تو ملک مضبوط ہوگا، تاجروں، سرمایہ کاروں کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملتا ہے، کسی سرمایہ کار سے آج تک یہ نہیں پوچھا، آپ سرمایہ کہاں سے لائے۔

جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ایک صورت میں ضرور پوچھا اگر آپ نے منی لانڈرنگ کی، پورے ملک میں کہیں نظر نہیں آیا کہ اربوں ڈالر کہاں خرچ ہوئے، حکومت اور ریاست پاکستان میں واضح فرق ہے، سازگار ماحول سے ہی ملک میں سرمایہ کاری آتی ہے،

سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کے باعث امن و امان بحال ہوا، بدعنوانی کو دیکھ کر نیب آنکھیں بند نہیں کرسکتا، عوام رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری سوچ سمجھ کر کریں.

loading...

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے 1235 ریفرنسز عدالتوں میں ہیں، اس کا ایک فیصد بھی بزنس مین کے خلاف نہیں بنتا، جنہیں لوگ کنگ میکر کہتے ہیں ان سے اربوں ڈالر لیے، کسی دھمکی سے نہیں لیے بلکہ پلی بارگین سے لیے جو قانون میں ہے۔

پی ڈی ایم نے پانچ فروری کے جلسے کا مقام تبدیل کر دیا

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ کوئی شخص ان ٹچ ایبل نہیں ہے، نیب کو سختی سے ہدایات کی ہیں کسی بزنس مین کو ٹیلی فون کرکے نیب کے دفتر میں نہیں بلایا جائیگا، اگر کسی کو بلانا ہوگا تو خود بلاؤں گا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ اب تو ٹی وی کھولیں نیب کے علاوہ کوئی بات نہیں، نیب کے خلاف مذموم پراپیگنڈا تواتر سے جاری ہے، بس اب تک یہ نہیں کہا گیا کہ کرونا بھی نیب نے پھیلایا، باقی ہر الزام نیب پر آیا جسے خندہ پیشانی سے قبول کیا لیکن ہمارا جو کام ہے وہ ہم اطمینان سے کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے، کوئی دھونس، دھمکی، اور بلیک میلنگ راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

(Visited 13 times, 1 visits today)
Loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں