‘کورونا وارڈذ میں کام کرنے والے عملے کو سب سے پہلے ویکسین لگائی جائے گی’

Loading...

اسلام آباد: پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا ہے کہ کورونا ویکسین کی جعل سازی ممکن نہیں ہے، فروری کے وسط میں عالمی وبا سے بچاؤ کی ویکیسن پاکستان میں دستیاب ہوگی۔

‘اسد درانی بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ساتھ 2008 سے جڑے ہیں’

ڈاکٹر نوشین حامد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا ویکیسین کسی بھی میڈیکل سٹور پر دستیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ کینسینو بائیو کے پاکستان میں ٹرائلز کئے گئے تھے ،اس کے نتائج کینیڈا میں مرتب کئے جا رہے ہیں، جلد ہی یہ ویکسین پاکستان میں درآمد کرنا شروع کر دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سائنو فرم ملک میں سب سے پہلے آ جائے گی۔ حکومت سائنوفرم کی گیارہ لاکھ خوراکیں منگوا رہی ہے۔ چین کی جانب سے یہ ویکسین پاکستان کو مفت فراہم کی جا رہی ہے۔

Loading...

پارلیمانی سیکرٹری کا کہنا تھا کہ سائنو فرم کے کلینیکل تجربے کے نتائج 85 فیصد سے زیادہ ہیں۔ طبی عملے کو آنے والے دنوں میں یہ ویکسین لگنا شروع ہو جائے گی۔ کورونا وارڈذ میں کام کرنے والے عملے کو سب سے پہلے ویکسین لگائی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ڈریپ نے تین کمپنیوں کو ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دی ہے۔ ان میں چینی ویکسین سائنو فرم اور آکسفورڈ کی ایسٹرزونیکا بھی شامل ہیں جبکہ روس کی سپوتنک فائیو کو درآمد کر رہے ہیں۔ ڈریپ کے مطابق ان تینوں ویکیسینز کے نتائج حوصلہ افزا ہیں، یہ ویکیسنز 80 فیصد تک موثر ہیں۔

(Visited 2 times, 1 visits today)
Loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں