کیا بیٹی باپ کی کمزوری ہوتی ہے … ؟

باپ کی
Loading...

باپ ایک ایسا سایہ ہے جس کے سائے میں اولاد پروان چڑھتی  باپ کا رشتہ ایک ایسا رشتہ ہے کہ اولاد باپ کے سائے میں خود کو محفوظ سمجھتی ہے خاص طور پر بیٹی ۔ ایک بیٹی کے لیئے باپ سب سے مضبوط رشتہ ہوتا ہے ایک مضبوط چٹان۔ جسے کوئی نہیں ہلا سکتا۔ جن بیٹیوں کے سر پر ان کے باپ کا سایہ ہوتا ہے ان بیٹیوں پہ کوئی دوسرا آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا ۔ باپ خدا کی عظیم نعمت ہے ۔ اولاد کی سب سے بڑی طاقت ہی اس کے والدین ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں کسی کو بات سمجھانے سے سمجھ نہیں آتی بلکہ صحیح وقت پہ انسان سب سمجھ جاتا ہے.

میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ لوگ بیٹیوں سے اتنا کیوں ڈرتے ہیں ؟ لیکن اب سمجھ میں آیا کہ لوگ بیٹیوں سے نہیں ان کے نصیب سے ڈرتے ہیں۔ میری ٹیچر کہا کرتی تھیں کہ اپنے لیئے جب بھی دعا مانگو تو اپنے لیئے اچھی قسمت مانگو اور ہم کبھی غور نہیں کرتے تھے۔ اب سمجھ میں آتا ہے کہ اچھی قسمت کا ہونا کتنا ضروری ہے ۔ اچھی زندگی گزارنے کے لیئے ضروری ہے کہ انسان کے پاس سکون ہو عزت ہو پیار ہو ۔ زندگی کی آسائشوں سے کچھ فرق نہیں پڑتا ۔ جب زندگی میں عزت سکون اور پیار ہی نا ہو تو اتنی دولت اور آسائشوں کا کوئی اچار ڈالے گا کیا ؟

ماں باپ اپنی پوری عمر صرف کر دیتے ہیں اولاد کی خوشی ترقی اور کامیابی کے لئے۔ تاکہ ان کی اولاد کو کوئی تکلیف نا ہو ۔ بیٹی پیدا ہوتی ہے تو والدین خاص طور پر والد پریشان رہنے لگتا ہے۔ ان کی پریشانی کی وجہ بیٹی کا وجود نہیں ہوتا بلکہ بیٹی کا نصیب ہوتا ہے ۔ بیٹی باپ کے جگر کا ٹکرا ہوتی ہے ۔ وہ ہر دکھ تکلیف مصائب ظلم ہر درد برداشت کر لیتا ہے لیکن اولاد کا دکھ نہیں ۔ آج میں ایک باپ کی کہانی سناتی ہوں.

ایک لڑکا جس کی عمر لگ بھگ نو سال ہو گی اپنے دادا کی خواہش پر ان کے ساتھ شہر سے گاوں رہنے کے لیئے آیا . دادا کی خدمت کی پڑھا لکھا ۔ باپ دادا کی دعاوں کو سمیٹتے ہوئے جوان ہونے لگا ۔ آہستہ آہستہ کامیابی اس کے قدم چومنے لگی اور وہ شہرت کی بلندیوں میں پہنچنے لگا ۔ سیاست میں قدم نہیں رکھا لیکن سیاستدانوں اور تمام بڑے بڑے عہدوں پر فائز لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے لگا ۔ وہ نوجوان شخص ایسے ایسے بڑے لوگوں سے بآسانی بات کر لیتا اور بڑے سے بڑا مسئلہ سلجھا لیتا۔

ایسے لوگوں سے بات منوا لیتا جن سے بات کرنا کسی کے لیئے بھی آسان نہیں تھا ۔ رفتہ رفتہ اس کی شہرت ایمانداری بات چیت کا طریقہ اسکا بےخود ہو کر بات کرنا بڑے بڑے لوگوں سے میل جول بڑھتا گیا اور گاوں سے ہوئے ہوئے شہر تک پہنچ گیا ۔ لوگ ان سے ڈرتے نہیں تھے بلکہ اپنے مسائل ان سے شیئر کرتے تھے اور وہ ان مسائل کا حل بآسانی تلاش کر لیتے.

کیا واقعی احساس کے رشتے خون کے رشتوں سے بڑھ کر ہوتے ہیں ؟

یہ اللہ کی طرف سے ایک تحفہ تھا ایک بہترین تحفہ جو اس شخص کو ملا تھا ۔ وہ ہر طرح کے لوگوں سے معاملات نبٹا لیتے تھے خواہ وہ کیسے ہی لوگ ہوں ۔ زندگی میں صرف لوگوں کا سوچا۔ بہت کمایا بہت لوگوں کی مدد کی ۔ جہاں بھی لوگ انہیں دیکھ لیتے وہیں سے آوازیں لگانے لگتے ۔۔ ان کے سامنے کوئی اونچی آواز میں بات تک نہیں کر سکتا تھا لیکن ہر مسئلہ لے کر ان کے پاس ہی آتے تھے لوگ کیونکہ وہ جانتے تھے یہاں سے ان کا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔ خواہ وہ شخص اپنا ہے یا غیر ۔ وہ نہیں سوچتا تھا بس سب کی مدد کر دیا کرتا۔

لیکن وقت کو گزرنا ہوتا ہے اور وہ گزر ہی جاتا ہے ۔۔ ہر چیز کو آخر زوال ہے ۔ ۔ اس شخص کا بھی وقت بدل گیا ۔ کینسر جیسی خطرناک بیماری نے آن گھیرا اور ایسا گھیرا کہ زندگی بالکل اس کے برعکس ہو گئی ۔ بھائی کی جاب کی پریشانی میں ان کے ساتھ کھڑے رہے اور اپنا خیال تک نہیں آیا ۔ جاب چلی گئی ، گاڑیاں ، بائیک سب ختم ہو گئے ۔ سات آپریشنز ہوئے تب کہیں اللہ کا شکر ہے کینسر جیسی بیماری سے جان چھوٹی ۔ پھر بھی ہمت نہیں ہاری سب کا حوصلہ بنے رہے ۔ پیسہ دولت چلا گیا لیکن آہستہ آہستہ تعلقات بھی ختم ہو گئے کیونکہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ جس کے پاس دولت پیسہ ہے اس کو لوگ صاحب کر کے بلاتے ہیں اور جس کے پاس نہیں اس کا بس نام ۔۔ لیکن خاندان کا بھرم آج بھی وہ شخص ہے ۔ پوری زندگی گزار دی لوگوں کے فیصلے کرنے میں لیکن ہمیشہ سر اٹھا کر فیصلہ کیا عزت سے زندگی گزاری۔ سب کا ساتھ دیا ۔۔ اپنی ذات تک کا خیال نہیں کیا ۔ لیکن زندگی میں پہلی بار اس شخص کو اداس پریشان اور بے بس دیکھا گیا اشک بار دیکھا گیا ۔ اور جب وجہ پوری گئی تو شدید دکھ بھرے الفاظ میں کہنے لگے.

Loading...

” پوری زندگی لوگوں کے فیصلے کیئے ، میرے ہر فیصلے پہ لوگ ہاں کرتے تھے ۔ واقعہ بتاتے ہیں کہ ایک بار گاوں کے سبھی رئیس بیٹھے تھے جیسے کہ پنجائت ۔ فیصلہ کرنا تھا ۔ میں بولا تو سب سے بڑا رئیس بولا ” شبیر تم مت بولو تم بولتے ہو تو بات میرے دل میں لگتی ہے اب فیصلہ تمہارا ہے تم کرو فیصلہ ” ( اور ان کی آنکھوں سے آنسو نکل کر ان کے گالوں پر بہنے لگے ) کہتے ہیں ایک دوست کی گاڑی چوری ہو گئی علاقہ غیر میں چلی گئی کروڑوں کی گاڑی تھی اور ساتھ ان کا بھائی بھی اغوا ہو گیا ۔ کوئی وہاں جا نہیں سکتا تھا میں گیا ان سے بات کی تو کہتے ہیں ” تم ہو کون ؟ کہاں سے آئے ہو ؟ اتنی ہمت ہے ؟ یہاں مار دیئے جاو گے ؟ تو میں نے کہا سر دوستی نبھانے آیا ہوں سر ۔۔ ابھی ایک گھنٹہ ہی بیتا تھا کہ ساری سلجھ گئی ۔ زندگی میں بڑے بڑے واقعات ہوئے لیکن یہاں فیصلہ نہیں کر پا رہا ۔۔ ان کا دکھ مجھ سے دیکھا نہیں گیا۔

کہتے ہیں بیٹی کا رشتہ کرنا ہے لوگ کہتے ہیں ڈیمانڈ رکھو ۔ بیٹی کی قیمت کوئی ادا کر سکتا ہے ۔ جب اربوں کھبوں کی بیٹی دے دی تو ان چند لاکھوں سے کیا ہو گا ۔۔ بس اللہ کے سپرد کر دیا ۔ بیٹی کا نصیب اچھا کرے وہ خوش رہے بس یہی چاہیئے ۔ کیونکہ وہ بیٹی نہیں میرے جگر کا ٹکڑا ہے ۔

بیٹی کو گلے سے لگا کر کہتے ہیں ” آپ میرے جگر کا ٹکرا ہو ، میں کچھ بھی کر سکتا ہوں آپ کے لیئے ۔ آپ مجھے دنیا میں سب سے عزیز ہو ۔ میرا فخر ہو ۔ “

یہ شخص میرے والد محترم ہیں اللہ پاک سے دعا ہے میرے اور آپ کے والدین کو لمبی زندگی صحت اور خوشیاں عطا فرمائیں ۔ آمین ثم آمین
میں آج تک کبھی اپنے والدین کے سامنے نہیں بولی ان کے ہر فیصلے پر دل سے ہامی بھری خوشی سے سر جھکایا کیونکہ میں جانتی دنیا میں ماں باپ سے زیادہ پرخلوص رشتہ کوئی نہیں ہے ۔ والدین کا رشتہ ایسا رشتہ ہے جواولاد کی بہتری کا سوچتے ہیں ۔ ماں باپ تو اولاد کے لیئے سب کر جاتے ہیں پاپا کہتے ہیں بیٹا سب دے سکتا ہوں نصیب نہیں دے سکتا بس دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ آنے والی زندگی کیسی ہو گی مجھے نہیں معلوم لیکن میرے بابا ماں نے جو باتیں سکھائی ہیں ان پہ دل سے عمل کروں گی ۔ ماں باپ نے مختلف اوقات میں بس ایک ہی بات سمجھائی ہے کہ ” بیٹا جیسے ہماری عزت رکھی ویسے ہی شوہر اور سسرال کی بھی عزت رکھنا “

لیکن میں سوچ رہی ہوں باپ بیٹی کے لیئے مضبوط اور محفوظ سائیان ہوتا ہے لیکن بیٹی باپ کے لئے کمزوری کیوں بن جاتی ہے ۔۔۔ ؟

زونیرہ شبیر

(Visited 75 times, 1 visits today)
Loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں